بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اس سوال کے جواب میں کہ ایسی صورتحال کے باوجود یہ ممالک امریکہ کے ساتھ تعاون کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا: "ان کے درمیان پہلے سے موجود معاہدے اور وعدے ہیں، اور شاید انہیں ابھی بھی امریکہ سے کچھ امیدیں وابستہ ہیں۔ یہی عوامل انہیں فوری طور پر تعلقات منقطع کرنے سے روکتے ہیں، لیکن وہ بتدریج ضرور ایسا کر لیں گے۔"
بریگیڈیئر جنرل محبی نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل "معاہدۂ مکہ" (یا میثاق مکہ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "اس معاہدے کا قیام، جو بیرونی مداخلت کے بغیر منعقد ہؤا، اس حقیقت کا عینی ثبوت ہے کہ یہ ممالک امریکہ جیسی بیرونی طاقتوں پر مشتمل اتحادوں سے مایوس ہو چکے ہیں اور اب علاقائی انتظامات کی جانب مائل ہو گئے ہیں۔ ممکن ہے کہ دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کی کوشش کریں یا نئے معاہدے منعقد کریں۔"
انھوں نے مزید کہا: "اس رجحان نے اس احساس سے جنم لیا ہے کہ سلامتی کو علاقائی سطح پر یقینی بنانا چاہئے؛ کیونکہ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھی کوئی بیرونی طاقت ان کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔"
سپاہ پاسداران کے ترجمان نے زور دے کر کہا: "یہ ممالک اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ انہیں رفتہ رفتہ امریکہ سے دور ہونا چاہئے اور اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کا خاتمہ کرنا چاہئے۔ تاہم، موجودہ ذمہ داریوں، مختلف رکاوٹوں اور ـ کسی حد تک ـ اب بھی باقی امیدوں [اور امریکہ کے خوف] کی وجہ سے، وہ فوری طور پر ایسا قدم اٹھانے سے قاصر ہیں۔"
بریگیڈیئر جنرل محبی نے مزید کہا: "میری نظر میں، موجودہ نسل یہ فیصلہ کرے گی؛ اگر ایسا نہ ہؤا تو اگلی نسل یقیناً یہ فیصلہ کر ہی لے گی۔ یہ ایک منطقی، معقول اور آزمودہ عمل (Process) ہے۔ اسی سمجھ بوجھ کو نئے فیصلوں کی بنیاد بننا چاہئے، اور ان ممالک کو خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کی جانب بڑھنا چاہئے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ